ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا حکومت، پولیس افسران اور جوانوں کی کونسلنگ کے مراکز قائم کرے گی: وزیراعلیٰ سدرامیا کا بیان

کرناٹکا حکومت، پولیس افسران اور جوانوں کی کونسلنگ کے مراکز قائم کرے گی: وزیراعلیٰ سدرامیا کا بیان

Sat, 22 Oct 2016 04:58:58    S.O. News Service

بنگلورو۔21/اکتوبر(ایس او نیوز) آئے دن پولیس افسران اور جوانوں کی طرف سے کام کے دباؤ یا دیگر وجوہات کے سبب خود کشی کے واقعات پرآج ایک بار پھر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ ان تمام پولیس جوانوں اور افسران کی کونسلنگ کیلئے ضلعی سطح پر انتظامات کئے جائیں گے۔ آج پولیس کے یوم یادگار کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پولیس میں ضابطہ کی کمی کو دور کرنے کیلئے حکومت مناسب اقدامات کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ پولیس والوں پر کام کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے بھی حکومت اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس راگھویندرا اورادکر کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کو مناسب طریقے سے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پولیس والوں کو محکمہ میں جو پریشانی ہے اسے حکومت تک پہنچانے کیلئے ایک مخصوص شکایات شعبہ قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلیٰ افسران کو تاکید کی کہ وہ اپنے ماتحتوں کی فکر کریں اوران پر غیر ضروری طور پر کام کا زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ محکمہئ پولیس میں اگر ڈسپلن نہ رہا تو ریاست کے کس محکمہ میں ڈسپلن کی توقع کی جاسکتی ہے؟۔ گلبرگہ میں ایک معرکہ کے دوران قتل ہوئے انسپکٹر ملیکارجن بنڈے، خنجر زنی میں ہلاک انسپکٹر جگدیش اور خود کشی کرنے والے انسپکٹر کلپا ہنڈی باگ کے خاندان سے ایک ایک فرد کو سرکاری ملازمت دئے جانے کا اعلان کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ خاص معاملات میں حکومت نے ان خاندانوں کو مالی امداد بھی مہیا کرائی ہے۔وزیراعلیٰ نے ڈی وائی ایس پی گنپتی اور دیگر افسران کی خود کشیوں پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ خود کشی کیلئے مجبور ہونا دراصل بزدلی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسان ہو یا پولیس اپنی پریشانیاں حکومت تک پہنچائیں، ان کو دور کرنے کیلئے ضرور قدم اٹھائے جائیں گے۔ اگر یہ لوگ خود کشی کرنے لگیں تو ان کے بیوی بچے سڑکوں پر آجائیں گے اور ان کے خاندان کا معاشی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ کوئی حکومت یا معاشرہ ان کا پرسان حال نہیں بن سکے گا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس فورس اپنے ڈسپلن اور ضابطہ کیلئے مشہور ہے۔خاص طور پر کرناٹک پولیس کو ملک میں خصوصی طرہئ امتیاز حاصل ہے۔ ان حالات میں پولیس افسران مفاد پرست عناصر کے اشتعال میں نہ آئیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے پولیس والوں کو کینٹین کی سہولت مہیا کرائی گئی ہے، طبی جانچ کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپے دئے جارہے ہیں۔ راشن کیلئے ماہانہ چار سو روپیوں کی رقم دی جارہی ہے اور بھی دیگر سہولیات فراہم کرکے حکومت پولیس والوں اور ان کے خاندانوں کو پر سکون زندگی کا ماحول دینا چاہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہئ پولیس میں کام کرنا ہے تو 24 گھنٹے وقت لگانا اور کام کا دباؤ برداشت کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ پولیس جوانوں کو اپنے خاندان اور بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کیلئے مناسب مہلت مہیاکرانے کیلئے ایک لائحہ عمل وضع کیاجارہاہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ پچھلے ایک سال کے دوران ملک بھر میں 473 پولیس افسران اور جوان ملازمت کے دوران شہید ہوگئے۔آج پولیس کے یوم یادگار کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اوم پرکاش، وزیر داخلہ کے مشیر کیمپیا، چیف سکریٹری سبھاش چندر کنٹیا اور دیگر اعلیٰ پولیس عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔
 


Share: